“حضرت ام البنین(س)، ابالفضل العباسؑ کی ماں!” از شہید مطہری

اپنی ازدواج کے لئے حضرت امیر المومنینؑ کی ہدایت!

امیر المومنین علی علیہ السلام کی زوجہ جناب ام البنین(س)کے علیؑ سے چار بیٹے ہیں۔ مورخین نے لکھا ہے کہ علی علیہ السلام اپنے بھائی عقیل کو خاص طور پر ہدایت دیتے ہیں کہ میرے لیے ایک ایسی عورت کا انتخاب کریں، کہ جس کی یہ خصوصیت ہو کہ”والداتة الفحوله” یعنی جو بہادروں(ماں باپ سے)کی اولاد سے ہوں، جسے دلیروں سے وراثت ملی ہو، اور “لتلد لی ولدا شجاعا” میں چاہتا ہوں کہ ان سے شجاع اولادوں کی ولادت ہو۔

 

حضرت ام البنین سے ازدواج، امیرالمومنینؑ کی دور اندیشی!

ویسے تاریخ میں کہیں نہیں ملتا کہ امیر المومنینؑ نے ایسا واضح کیا ہو کہ میری اس ہدایت(کہ ایسی عورت جو بہادر خاندان سے ہو اسے میری زوجیت کے لئے انتخاب کا کیا جائے)ہدف و مقصد کیا ہے لیکن جو لوگ علیؑ کی روشن فکری کا اعتراف کرتے اور اس پہ ایمان رکھتے ہیں کہتے ہیں کہ علیؑ اس کام کے ذریعے اس کے انجام کی پیشن گوئی کررہےتھے۔

 

جس نے اپنے سارے بیٹے راہِ حق میں قربان کردیئے!

جناب عقیل نے حضرت ام البنین(س)کے بارے میں کہا کہ جس قسم کی(بہادر) زوجہ آپ چاہتے ہیں یہ(حضرت ام البنین)بالکل ویسی ہی ہیں، ان عظیم المرتبت بانو سے چار بیٹے جن میں سب سے بڑے حضرت ابا الفضل العباسؑ ہیں، متولد ہوتے ہیں، آپ کے چاروں بیٹے کربلا میں امام حسینؑ کی رکاب میں حرکت کرتے ہیں اور شہید ہوجاتے ہیں۔

 

 

عہد معارف ، شہید مطہری

0 Reviews

Write a Review

متعلقہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *