میدان کربلا میں عاشقانہ کارزار! از رہبر انقلاب

انقلابِ حسینیؑ کے عوامل!

حسین بن علیؑ جیسی شخصیت کہ جس میں خود تمام اعلی اقدار مجسم ہوئے ہیں، انقلاب بپا کرتی ہے تاکہ زوال و انحطاط کی راہیں بند کردے، کیونکہ پستیاں پیر پھیلاتی چلی جارہی تھیں اور وہاں تک پہنچ جانا چاہتی تھیں کہ کوئی چیز باقی نہ رہے۔

 

کربلا ایک عاشقانہ کارزار!

امام حسین علیہ السلام تن تنہا زوال اور پستی کی اس تیز ڈھلان پر اس کے مقابل کھڑے ہوگئے۔ سکے کا یہ رخ (کربلا کا وہ) عظیم حادثہ اور عاشورا کی عشق و حماسہ سے معمور وہ ’’عاشقانہ کارزار‘‘ ہے جسے عشق کی منطق اور عاشقانہ نگاہ سے دیکھنا چاہئے تاکہ سمجھا جا سکے کہ علیؑ کے فرزند حسینؑ نے تقریبا ایک رات اور آدھے دن یا ایک شبانہ روز کے دوران کیا کارنامہ انجام دیا ہے اور کیا عظمت خلق کی ہے!

 

کربلا کا رازِ ابدیت!

یہی وجہ ہے کہ عاشورا دنیا میں جاوداں ہے اور ابد تک جاوداں رہے گی۔ بہت کوششیں ہوئیں کہ عاشورا کی کارزار کو طاق نسیاں کے حوالے کر دیا جائے لیکن وہ آج تک ایسا نہیں کرسکے اور نہ آئندہ کرسکیں گے۔

 

 

عید معارف ، رہبر معظم

متعلقہ

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے