امام محمد باقرؑ کے دور کی خصوصیات از رہبر انقلاب

دورِ امام محمد باقرؑ ، خاندانِ اہل بیت سے دشمنی میں کمی!

امام محمد باقر علیہ السلام کی زندگی اسی خط(امام کے راستہ)کا تسلسل ہے۔ لیکن(آپ کے دور امامت میں) حالات میں کافی بہتری آئی۔ آپ کے دور میں بھی اسلامی اور دینی تعلیمات تھیں لیکن پہلی بات یہ کہ لوگ(اس دور میں) رسول اللہ(ص)کے گھرانے کی بنسبت لاپراوہی اور سردمہری کا شکار نہیں تھے۔ جب امام محمد باقر(ع)مدینہ میں داخل ہوئے تو لوگوں کی ایک کثیر جماعت انہیں گھیرے میں لے لیتی ہے اور ان کی شخصیت سے بھرپور فائدہ اٹھاتی ہے۔

 

عالم آل محمدؑ اور اسلام کی طرف رغبت!

امام محمد باقرؑ کے متعلق روایت ہے کہ ایک شخص کہتا ہے کہ(میں نے)امام باقرؑ کو مدینے کی مسجد میں دیکھا(اس حال میں)کہ دور دراز علاقوں سے، خراسان سے، ان علاقوں سے جو مدینہ سے قریب نہیں آتے ہیں اور آپؑ کو گھیرے میں لے لیتے ہیں۔ یہ حکایت اس کی علامت ہے کہ(اسلام کی)ترویج سمندر کی لہروں کی مانند پورے جہاں میں سرایت کررہی تھی اور دور دراز علاقوں کے افراد خاندان اہل بیتؑ سے قریب ہورہے تھے۔

 

امام محمد باقرؑ کی منفرد وصیت!

تاریخی اعتبار سے یہ ایام(شہادت امام کے ایام)؛ نہایت اہم اور عظیم ایام ہیں۔ امام محمد باقرؑ کہ دلسوز شہادت کہ ایک نصیحت آمیز شہادت تھی۔ لہذا خود آپؑ نے وصیت کی کہ ان کے بعد دس سال تک منیٰ میں ان کی شہادت کی مناسبت سے سوگ منایا جائے۔ ہمارے تمام آئمہ کرام کے درمیان، یہ وصیت ایک منفرد وصیت ہے۔ امام باقر(ع)کی یاد یعنی اسلام ناب کو دوبارہ زندہ کرنا کہ جو تحریفات کے مقابلے میں انجام دیا گیا۔

 

 

رہبر معظم ، عہد معارف

متعلقہ

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے