نماز، دنیا اور آخرت میں سعادت کا ذریعہ از رہبر انقلاب

شریعت، وسیلہ سعادت!

تمام شرعی فرائض کی ادائیگی اور تمام حرام کاموں سے دوری کا حکم، انسان کی روحانی جڑوں کی تقویت اور اس کے دنیا و آخرت کے تمام امور کی اصلاح کے لیے ہے۔

 

نماز، سعادت کا سب سے بنیادی عنصر!

چاہے وہ انفرادی اصلاح ہو یا اجتماعی اصلاح ہو، پروردگار عالم کی طرف سے تجویز شدہ دواؤں کا ایک مجموعہ ہے، ہاں اتنا ضرور ہے کہ اس مجموعے میں بعض عناصر کلیدی عناصر ہیں چنانچہ شاید یہ کہنا غلط نہ ہو کہ ان عناصر میں نماز سب سے بنیادی عنصر ہے۔

 

نماز اور انفرادی و اجتماعی اصلاح!

اگر ہم نماز پڑھتے ہیں، اندرونی طور پر انسان کی روح اور انسان کے قلب سے لے کر معاشرے کی سطح تک معاشرے پر حکمران افراد کی سطح تک، جو کچھ بھی اس عظیم معاشرے کے اندر موجود ہو، نماز کے ذریعہ امان پیدا کر لیتا ہے، اسے امن و تحفظ حاصل ہو جاتا ہے۔

 

نماز، جوان کی امید کا محور!

ملک کے جوان طبقے میں دوسروں سے زیادہ نماز کو اہمیت دی جانی چاہیے۔ نماز کے ذریعے ایک جوان کا دل روشن ہو جاتا ہے، امیدوں کے دریچے کھل جاتے ہیں، روح تارہ ہو جاتی ہے، سرور و نشاط کی کیفیت طاری ہوجاتی ہے اور یہ حالات زیادہ تر جوانوں کا خاصہ ہیں۔

 

 

عہد بندگی ، رہبر انقلاب

0 Reviews

Write a Review

متعلقہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *